لاہور: ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز (کالجز) پنجاب نے سرکاری کالجز میں فارن لینگویج سینٹر کے قیام کے لیے فریم ورک پر عملدرآمد کا باضابطہ مراسلہ جاری کر دیا ہے۔۔ یہ مراسلہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی 10 اگست 2026 کی میٹنگ کی سفارشات کی روشنی میں جاری کیا گیا ہے۔مراسلے کے مطابق پنجاب کے سرکاری کالجوں میں طلباء کو بین الاقوامی زبانوں میں مہارت دینے کے لیے یہ انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے۔*اہم ہدایات اور خدوخال:**1. کون سی زبانیں سکھائی جائیں گی؟*ابتدائی طور پر کورین، جرمن، چائنیز / مینڈرین، جاپانی، عربی، فرنچ، اطالوی، ہسپانوی اور دیگر منظور شدہ غیر ملکی زبانیں شامل ہیں۔ کوئی بھی کالج ڈائریکٹوریٹ کی باقاعدہ اجازت کے بغیر سینٹر قائم نہیں کر سکے گا۔*2. داخلہ اور رجسٹریشن:*ہر زبان کے لیے کم از کم 60 طلباء کا داخلہ لازمی ہوگا۔ مارننگ اور ایوننگ شفٹ یا الگ سیکشنز کی سہولت دی جا سکتی ہے۔ تمام داخلوں کی رجسٹریشن صرف پی۔آئ۔ٹی۔بی کے سنٹرلائزڈ ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے ہوگی۔*3. فیس:*فی طالب علم ٹیوشن فیس 3,000 روپے سے زائد نہیں ہوگی۔ فنڈز کا استعمال صرف اساتذہ کے معاوضے اور تعلیمی و انتظامی انفراسٹرکچر پر ہوگا۔*4. اساتذہ کی بھرتی:*اہل اور کوالیفائیڈ لینگویج انسٹرکٹرز کو شفاف اور دستاویزی طریقہ کار کے تحت بھرتی کیا جائے گا۔*5. انفراسٹرکچر:*کالجوں کو ہائی سپیڈ انٹرنیٹ، انٹرایکٹو LED اسکرینز، ملٹی میڈیا سسٹم اور آڈیو / لسننگ آلات کی دستیابی کو یقینی بنانا ہوگا۔*6. بین الاقوامی سرٹیفیکیشن:*کورسز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالا جائے گا، جس میں کورین کے لیے TOPIK، چائنیز کے لیے HSK، جرمن کے لیے Goethe-Zertifikat، جاپانی کے لیے JLPT اور دیگر تسلیم شدہ سرٹیفیکیشن شامل ہیں۔*7. روزگار کے مواقع:*ڈائریکٹوریٹ اور PITB، PHEC، NAVTTC، TEVTA، غیر ملکی سفارت خانوں اور اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے ساتھ مل کر طلباء کو اعلیٰ تعلیم، سکالرشپس اور بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے رابطے قائم کریں گے۔تمام ڈویژنل ڈائریکٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موزوں کالجوں کی نشاندہی کر کے مجوزہ زبانیں، متوقع داخلے اور موجودہ انفراسٹرکچر پر مبنی جامع پلان جلد از جلد ڈائریکٹوریٹ کو بھجوائیں۔ سخت تعمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔


