ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن لاہور ڈویژن کی طرف سے تمام کالجز مین ایک مراسلہ ارسال کیا گیا ہے اس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طالبات کی سیکیورٹی کی ذمہ داری تعلیمی ادارے کے سربراہ پر ہے اس حوالے سے انہیں 4 قسم کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کا کہا گیا ہے ۔
ایک تو یہ کہ جب بھی ہراسانی کا کوئی معاملہ سامنے آئے تو فوری طور پر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائے اور اگر معاملہ قابل دست اندازی پولیس ہو تو دفعہ پی ۔پی۔سی۔509 کے تحت ایف۔آئ ار درج کروائ جائے دوسرا یہ کہ ہر کالج میں سی۔سی۔ٹی وی کیمرے لازمی نصب کروائے جائیں اور داخلی اور خارجی راستوں اور حساس مقامات کی مانیٹرنگ پرنسپل خود کرے تیسرا یہ کہ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کی پولیس ویریفکیشن مکمل کروائ جائے نیز کالج کے گیٹ اوراس سے ملحقہ علاقوں اور طالبات کے استعمال والے راستوں پر پولیس گشت کے لئے مقامی پولیس سے رابطہ کیا جائے
مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی غفلت کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور متعلقہ پرنسپل کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا
