2025 Latest News Press Releases

پشاور۔۔ ،،پنشن بچاؤ تحریک کا آغاز پشاور سے کر دیا گیا پریس کلب کے سامنے مظاہرہ

آگیگا اور ایمپلائز کوآرڈینییشن کونسل کے اشتراک سے چلائی جانے والے اس احتجاجی مظاہرے سے دونوں تنظیموں کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے پیشن کی تمام منفی تبدیلیاں واپس لینےاور وفاقی حکومت کی طرز پر تیس فیصد ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس دینے کا مطالبہ کیا آج تمام سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں قلم چھوڑ ہڑتال اور تالا بندی کی گئی آٹھ جنوری 2026 کو دونوں تنظیموں کے اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا

پشاور (پ ر) صوبہ بھر کے 6 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کا معاشی استحصال بند کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) اور آل گورنمنٹ ایمپلائز کوارڈینیشن کونسل خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب کے سامنے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اگیگا پاکستان حیدر علی خان استانیزے، بابائے اگیگا سمیع اللہ خان خلیل، عزیز اللہ خان، صدر کوارڈینیشن کونسل سراج الدین برکی، سید الاسلام دورانی، محمد آصف خان آفریدی، ملک نوید احمد اعوان، سریر خان، رازم خان لالا، نوید گل ہزار خوانی، کلیم خان محسود، سالار اسلام طارق، محمد عابد،پروفیسر عبدالحمید آفریدی، پروفیسر وحید خٹک، گوہر تاج، ذوالقرنین، منظور خان، اکبر خان مہمند، ممتاز علی خان، اورنگزیب، بحر اللہ، ڈاکٹر احترام خان، محب اللہ، منتظر شاہ، ملک سجاد اللہ، ملک اعجاز، محمد ہارون، بابا خان خلیل، ارشد خالد، حضرت محمد شاہ جہان،پروفیسر ناصر علی، منیب خان، وارت خان، منیر خان مہمند، فرمان خان اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں معاشی اصلاحات نافذ کرنے کی بجائے سرکاری ملازمین کی پنشن پر مسلسل کٹ لگا کر غریب سرکاری ملازمین کو دیوار سے لگا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پنشن کا پرانا طریقہ کار بحال کر دیا ہے جبکہ صوبائی حکومت ابھی تک ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ مقررین نے کہا کہ بجٹ 2025ء میں وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تضاد ختم کرنے کے لئے 30% ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دیا تھا لیکن صوبائی حکومت نے اس میں بھی سرکاری ملازمین کو مایوس کیا ہے جس پر اگیگا اور کوارڈینیشن کونسل کی صوبہ گیر تنظیموں نے صوبہ بھر میں احتجاجی تحریک بھی چلائی، صوبائی وزراء کی یقین دہانیوں پر احتجاج اور تحریک ختم کر دی گئی لیکن حکومت اپنا وعدہ بھول گئی اور ابھی تک 30% ڈسپیریٹی کا مسئلہ زیر التواء ہے۔ اس موقع پر سرکاری ملازمین کے قائدین نے خطاب کرتے ہوئے کلاس فور ملازمین کی پوسٹیں ختم کرنے کے اقدام کو مسترد کیا اور کہا کہ بڑی بڑی پوسٹیں ختم کرنے کی بجائے غریب سرکاری ملازمین کی پیٹ میں چھرا گھونپا گیا ہے جس پر غریب سرکاری ملازمین دونوں ہاتھوں سے حکومت کو بد دعائیں دے رہے ہیں۔ مقرین نے کہا کہ کیبنٹ سے منظور شدہ اساتذہ کی اپ گریڈیشن اور ریگولرائزیشن پر تاحال کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی نہیں ہوئی جس سے حکومت کے جھوٹ کا چہرا بے نقاب ہوگیا ہے۔ حکومت فوری طور پر اپنے وعدے کو پورا کرے اور کبینٹ سے منظور شدہ اپ گریڈیشن کا نوٹیفیکیشن جاری کرے اس کے ساتھ ہی 2022ء میں بھرتی شدہ اساتذہ کی ریگولرائزیشن کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا جائے تاکہ نوجوان اساتذہ مزید دلجمعی سے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔CP فنڈ اور جی پی فنڈ نے نوجوان سرکاری ملازمین میں مایوسی اور بد دلی پیدا کی ہوئی ہے لہٰذا CP فنڈ کو مستقل طور پر ختم کر کے GP فنڈ کی پالیسی دوبارہ نافذ کی جائے۔ مقررین نے کہا کہ بلدیاتی ملازمین کی تنخواہوں کی بندش کی وجہ سے غریب ملازمین کے گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں دیگر ملازمین کی طرح انہیں بھی اکاؤنٹ 4 کے ذریعے تنخواہیں دی جائیں۔ مقررین نے کہا کہ دنیا بھر میں سکالرز، پروفیسرز اور اساتذہ کی عزت و تکریم کی جاتی ہیں انہیں مراعات سے نوازا جاتا ہے لیکن ہماری حکومت نے سکالرز اور اساتذہ کو 25% ٹیکس میں دیا گیا چھوٹ بھی واپس لے لیا ہے جس سے وفاقی اور صوبائی حکومت کو ڈوب مرنا چاہئے۔ اس موقع پر پشاور پریس کلب کے سامنے سرکاری ملازمین کی کثیر تعداد موجود رہی، سرکاری ملازمین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر ان کے مطالبات درج تھے۔ واضح رہے کہ اگیگا اور کوارڈینیشن کونسل کے زیر اہتمام یہ پرامن احتجاج صوبہ بھر کے تمام ضلعی پریس کلبوں کے سامنے بہ یک وقت ہو رہا ہے۔ جس کی قیادت مختلف اضلاع میں اگیگا اور کوارڈینیشن کونسل کے قائدین کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں اگیگا خیبر پختونخوا کے صوبائی چیئرمین وزیر زادہ اپنے آبائی ضلع بونیر میں اور جنرل سیکرٹری نیاز علی خٹک مردان میں سرکاری ملازمین کے احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں آج پورے صوبے میں تمام سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں قلم چھوڑ اور تالا بند ہڑتال ہے۔ اگر حکومت نے سرکاری ملازمین کے مسائل میں دلچسپی نہ لی اور انہیں حل نہ کیا تو پھر 8 جنوری 2026ء کو صوبہ بھر کے سرکاری ملازمین کی نمائندہ تنظیم اگیگا اور کوارڈینیشن کونسل آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے اجلاس کرے گی۔ بعدازاں سرکاری ملازمین اپنے مسائل کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

Related posts

محکمہ ہائر ایجوکیشن در بدر، ریکارڈ، بوری بند ہزاروں کالج اساتذہ پریشان

Ittehad

دیال سنگھ کالج میں شام فیض کی تقریب،وزیر ہائر ایجوکیشن کی شرکت

Ittehad

ٹرانسفر ایپ آخر کیوں اوپن نہیں ہو رہی؟ کب اوپن ہوگی؟؟

Ittehad

Leave a Comment