2021 Akhbaar Latest News

فیملی پینشن کو پینشن کے برابر کر دیا گیا۔لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ

 پندرہ فروری کے فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت کی اپیل مسترد

لاہور ہائی کورٹ کے جج نے 15 فروری دو ہزار انیس  کو ایک فیصلے میں بیوہ یا رنڈوے کو پوری پینشن دینے کا فیصلہ دیا تھا جس کے خلاف پنجاب حکومت  نے اپیل دائر کر رکھی تھی  فاضل جج صاحبان نے اس اپیل کو مسترد کرتے ہوئے پندرہ فروری دو ہزار انیس کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو بحال رکھا ہے فاضل عدالت نے 13 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے جس میں انہوں نے سرکاری ملازمین کے بیوی بچوں/ ۔رنڈوے اور بچوں کو پوری پینشن کا حقدار قرار دیا ہے فیصلے کے مطابق وزارت خزانہ یا اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کو سرکاری خزانے پر کسٹوڈین بن کر من مانے فیصلے کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اگر کوئی سرکاری ملازم /ملازمہ دوران سروس انتقال کر جائے تو اس کے اہل خانہ پوری پینشن کے حقدار ہو نگے اگر کسی ملازم کی بیوہ بھی انتقال کر جائے تو اس کے بچے بھی پینشن کے حقدار ہونگے نیز لاہور ہائیکورٹ نے ریٹائرمنٹ سے قبل استعفی دینے والے کو سرکاری ملازمین کو پینشن نہ دینا کو آئین و قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے

Related posts

،معاشرے میں اجتماعی مکالمے کا  زوال  اتحاد اساتذہ پاکستان کے زیر اہتمام فکری نشست   

Ittehad

لا پتہ سی ایس پی آفیسر کے لواحقین کو فیملی پنشن دینے کا نوٹیفکیشن

Ittehad

حکومت پنجاب نے لین دین کے لیے پندرہ بینکوں کا اعلان کر دیا

Ittehad

Leave a Comment