کالج ٹائمنگ اور ٹیچرز ٹائمنگ ____________________________پنجاب ایجوکیشن کوڈ میں کالج ٹیچرز کے ورک لوڈ کی وضاحت بڑی تفصیل سے موجود ہے کہ لیکچرار سے لیکر ایسوسی ایٹ پروفیسر تک کتنے پیریڈ پڑھانے ہوں گے اور پروفیسر کو کتنے پڑھانے ہوں گے اور اگر کوئی کلاس ایک گھنٹے کی ہو تو ورک لوڈ میں وہ کتنے پیریڈز کے برابر ہو گی۔ ایجوکیشن کوڈ چونکہ سکول اور کالج کا اکٹھا ہے اس لیے اس میں یہ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ سکول ٹیچر کے ٹائمنگ سکول ٹائمنگ کے برابر ہیں لیکن کالج کیڈر کے ٹیچرز کو اس کا پابند نہیں کیا گیا۔ سکول ورک کو نان انٹیلیکچوئل لیبر کے طور پر لیا گیا ہے جبکہ کالج کی سطح کو انٹیکچوئل لیبر کے طور پر لیا گیا ہے اور بین الاقوامی اصول کو تسلیم کیا گیا ہے کہ انٹیلیکچوئل لیبر مینوئل لیبر کے نصف کے برابر ہو گی۔ لہٰذا کالج ورک 8 کی بجائے 4 گھنٹے ہو گا۔ لیکن بلڈنگز اور لیبارٹری کے مسائل کے حل کیلئے کالج ٹائمنگز 6 گھنٹے رکھی گئی ہیں یعنی کالج کا ٹائم ٹیبل 8 پیریڈ یعنی صبح 8 بجے سے لیکر دوپہر 2 بجے تک ہو گا اور تمام ٹیچرز کا زیادہ سے زیادہ ورک لوڈ 4 کلاسز ہو گا اور اس کے لیے بھی یہ شرط ہے کہ وہ لگاتار نہ ہو بلکہ اس کے درمیان ایک کلاس کا ریسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یعنی کالج ٹیچرز کو 5 پیریڈز (4گھنٹے) کالج کے اندر رکنے کا پابند کیا گیا ہے۔ بلڈنگ اور لیبارٹری کی مجبوریوں کی بنا پر بیک وقت ساری کلاسز نہیں لگائی جا سکتیں اس لئے کچھ پہلے 5 پیریڈز میں ایڈجسٹ ہوں گے اور کچھ آخری 5 میں ایڈجسٹ ہوں گے اور یہی سٹاف کے کالج میں موجود ہونے کا تعین کرتا ہے۔ کالج ٹائمنگ سٹاف ٹائمنگ ہر گز نہیں۔ لیکن بیوروکریسی کو بار بار یہ دورہ پڑتا ہے اور وہ اس فرق کو سمجھے بغیر ہی ٹیچرز کو کالج ٹائمنگ کا پابند کرنے کے احکامات جاری کرتے رہتے ہیں اور ہماری تعلیمی بیوروکریسی کے بھی حالات کافی پتلے ہیں اور وہ بطور ٹیچرز حکام بالا کو اس حقیقت سے آگاہ کرنے کی بجائے اس کی آڑ میں اپنی اتھارٹی اور رعب جمانے کے چکر میں اپنے ہی بہن بھائیوں کو تنگ کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ لہٰذا یہ آنکھ مچولی جاری ہے۔ اختیارات کے ارتکاز کی وجہ سے ہر سیکرٹری کو یہ گمان گزرتا ہے کہ اس کا آفس بہت کام کر رہا ہے اور کالج ٹیچر بالکل فارغ ہے اور کوئی کام نہیں کرتا لہٰذا کالج ٹائمنگ کا پابند کیا جانا نہایت ضروری ہے۔ چنانچہ ہر جھگڑے کے بعد ہر ایسوسی ایشن کو اسے بتانا پڑتا ہے کہ تمہاری جاب نان انٹیلیکچوئل لیبر ہے اور تم دراصل کلیریکل سٹاف اور جاب کی ایکسٹینشن ہو۔تمہارا ٹیچرز کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں۔ کلرک، پرنسپل، ڈائریکٹوریٹ آفس،ڈی پی آئی آفس اور اپنے ڈیپارٹمنٹل سیکرٹریٹ کو جس طرح مرضی چلاو۔ کلیریکل اور پرنسپل آفس کو کالج ٹائمنگ کا پابند کریں لیکن ٹیچرز اپنے ٹائم ٹیبل کے پابند ہیں اور اس کے علاوہ کوئی بھی پابندی اختیارات سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے۔ تمام سیکرٹری صاحبان پنجاب گورنمنٹ کے کوڈز کے پابند ہیں اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن بھی ایجوکیشن کوڈ سے اوپر نہیں بلکہ اس کے اندر محدود ہیں۔ بشکریہ جناب غلام مصطفی صاحب سابقہ صدر پیپلا،وسابقہ ایسوسی ایٹ پروفیسر دیال سنگھ کالج لاہور )
