وہ تدریسی خدمات کے علاؤہ انہوں نے ہیومین رائٹس خصوصی طور پر خواتین کے حقوق اور ثقافتی ورثہ کی پہچان کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش خدمات سر انجام دیں
انہوں نے سرکاری ملازمت کے دوران گورنمنٹ کالج برائے خواتین گلبرگ لاہور اور لاہور کالج برائے خواتین لاہور میں بطور پرنسپل اور بطور ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن پنجاب کے عہدوں پر فائز رہئیں وہ فورمن کرسچن کالج کی پروفیسر ایمریٹس تھیں
گریجویشن انہوں نے لاہور کالج برائے خواتین لاہور سے کرنے بعد گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے جو اس وقت تک گورنمنٹ کالج لاہور ہی تھا سے پوسٹ گریجویشن کی ڈگری لی مزید اعلی تعلیم ہوائی یونیورسٹی سے حاصل کی
وہ وزیر اعظم کی مشیر برائے امور خواتین اور خواتین کے نیشنل کمیشن کی چیئرپرسن بھی رہیں وہ یونیسکو کے کلچرل ہیریٹیج کمیشن کی بھی ممبر رہیں وہ نگران دور میں صوبائی وزیر بھی رہئیں
لاہور ( نمائندہ خصوصی) نامور ماہر تعلیم ،ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ اور معروف سکالر پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ آج اللہ کی رحمت کے سائے میں چلی گئیں ان کی عمر تقریبا چوراسی برس تھی اور وہ سرکاری ملازمت مکمل کرکے 2001 میں ریٹائر ہوئیں دوران ملازمت وہ مختلف انتظامی عہدوں پر فائز رہئیں جن میں ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن پنجاب ،گورنمنٹ کالج برائے خواتین گلبرگ لاہور کی پرنسپل اور لاہور کالج برائے خواتین لاہور کی پرنسپل خاص طور پر قابل ذکر ہیں وہ سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد جو علمی، ادبی اور ثقافتی خدمات سر انجام دیں وہ انہیں شہرت کی بلندیوں پر لے گئیں وہ زمانہ جوانی میں ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ کے طور جانی جانے لگی تھیں عورتوں کی ترقی اور ان کے حقوق کی جنگ جیسے انہوں نے لڑی وہ اپنی مثال آپ ہے وہ خواتین کے قومی کمیشن کی چیر پرسن رہیں اور یونیسکو کے ادارہ برائے ثقافتی ورثہ کی ممبر رہیں وہ وزیراعظم کی مشیر برائے خواتین و قومی ہم آہنگی کام کر رہی تھیں گزشتہ نگران دور کے دوران صوبائی وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہیں ان کی مختلف حیثیتوں میں سر انجام دی جانے والی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا
